Now you can Subscribe using RSS

Submit your Email
Showing posts with label Technology. Show all posts
Showing posts with label Technology. Show all posts

Wednesday, 12 August 2015

What your Facebook Updates reveals about your personality

Admin







When Facebook asks you “What’s on your mind” it is like a personality test. Answers to this question reveals a lot about your personality and how you are feeling according to a new study published in Personality and Individual differences.

Study explored the pattern of status updates and main motives to use Facebook. The list of motives ranges from attention seeking, feel loved, stay informed, express your opinion and communicate with people you don’t often see.


The study linked peoples’ status updates with their personality types and insecurities. The study findings identify five personality types and their likely motives to use Facebook.


People with Intellectual curiosity
People who talk about intellectual topics generally are high in openness to experience; they have an active imagination, attentiveness to inner feelings and intellectual curiosity. Such people prefer to share information on current events, research or politics instead of sharing what they ate for dinner. With this personality type people mostly share impersonal information.






Extroverts
People who are extroverts use Facebook to communicate and connect with others. Generally, their updates talk a lot about their everyday life and social activities. They frequently update their status as life goes on. Their Facebook page gives a glimpse of their everyday life.




People with high conscientiousness
People who are careful, thorough and vigilant rank high in conscientiousness. Such people tend to discuss their kids’ activities, share their stories and highlight their achievements.

Researchers believe conscientious people want to draw admiration from others for their parenting accomplishments.




Narcissists
Narcissists tend to use Facebook updates to talk about what they are doing or to share about their little accomplishments. Researchers see this tendency of narcissist people an effort to make themselves look good.

In the process, narcissists usually get a lot of likes and comments on their updates that meet their need of recognition and validation. 

Other Peoples’ response to narcissists’ updates is very interesting. Research reveals that close friends of narcissist often offer thumbs up even when they don’t like his/her post. Acquaintances keep themselves at a distance and they ignore narcissist’s excessive self-admiration. Research found acquaintances tend to get un-friend with narcissists over time.


Neurotic people
Those people who are more likely to experience stress, envy and guilt use Facebook to gain attention and support what they lack in real life. These people tend to exaggerate their daily life frustrations as major problems.





Attention and sympathy seeking is their primary motivation to use Facebook. Their updates talk about their problems and create drama. They get a sense of validation when people offer consolidation for their problems. 


Tuesday, 30 June 2015

موبائل فون دیر تک چارج رکھنے کےلئے مفید مشورے

Admin


 

نیویارک یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ سمارٹ فون کی بیٹری بہت تیزی سے کم ہوتی ہے اور اس کی بیٹری کے وقت کو بڑھانے کے لئے مختلف طریقے اپنائے جاتے ہیں۔ ذیل میں ہم آپ کوایسے طریقے بتائیں گے کہ آپ کے اینڈرائڈ موبائل کابیٹری ٹائم بڑھ جائے گا۔
پاور سیوئنگ موڈ کا استعمال
اکثر اینڈرائڈموبائلز میں کمپنیوں نے یہ موڈ رکھا ہوا ہے اور جب بیٹری ایک خاص حد پر پہنچ جاتی ہے تو یہ موڈ خود بخود آن ہو جاتا ہے۔ اگر آپ کے فون میں یہ موڈ نہ ہو تو آپ ایک ایپ ’جوس ڈیفنڈر‘ انسٹال کر لیں۔
اپنے فون کو خودکار بنائیں
موبائل کی بیٹری اس وقت بہت تیزی سے کم ہوتی ہے جب وہ خود بخود وائی فائی اور دیگر سافٹ وئیرز آن کردے۔ اگر آپ ایپ ’ٹاسکر ‘یا آٹومیلٹیٹ‘ انسٹال کرلیں اور ا س میں ایسی کمانڈز دے دیں جن میں صرف بوقت ضرورت ضروری اشیاءآن ہوں تو آپ کے موبائل کی بیٹری کا وقت بڑھ جائے گا۔
استعمال نہ ہونے والی ’ایپ‘ کو ڈیلیٹ کردیں
ایسی ایپس جو آپ استعمال نہیں کرتے انہیں ڈیلیٹ یا غیر فعال کردیںکیونکہ یہ ایپ بھی بیٹری کا وقت کم کردیتی ہیں۔
ہوم سکرین کو صاف رکھیں
اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہوم سکرین پر غیر ضروری ایپس موجود نہ ہوں کیونکہ اگر آپ کے ہوم پیج پر ایپس کی بھرمار ہو گی تو موبائل کی بیٹری بہت تیزی سے کم ہوتی جائے گی۔
ڈسپلے لائیٹ
اگر آپ کی سکرین کی لائیٹ زیادہ یر تک آن رہے تو یہ بہت زیادہ بیٹری استعمال کرے گی اور آپ کی بیٹری جلد ختم ہوجائے گی۔ جتنی جلدی سکرین کی لائیٹ بند ہو گی اتنا ہی اچھا ہے۔ اسی طرح سکرین کی چمک(brightness)کو بھی کم رکھیں۔
Vibrationبند رکھیں
کچھ لوگ رنگ ٹون کے ساتھ vibrationکو بھی آن رکھتے ہیں جس کی وجہ سے بیٹری کا وقت کم ہوتا جاتا ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ vibrationکو آف کردیں ۔
نوٹیفیکیشن بند کردیں
ہر بار جب کوئی آپ کی پوسٹ وغیرہ پر کمنٹ کرتا ہے تو ایک نوٹیفیکیشن موصول ہوتا ہے گو کہ آپ کو یہ علم رہتا ہے کہ کیا ہورہا ہے لیکن اس سے بیٹری ٹائم کم ہوجاتا ہے۔ کچھ ایپس ایسی بھی ہیں جو آپ کو وقت بے وقت نوٹیفیکیشن بھیجتی رہتی ہیں۔ آپ کے لئے ضروری ہے کہ نوٹیفیکیشن کو بند کردیں۔
جی پی ایس بند رکھیں
جی پی ایس بھی ان چیزوں میں سے ایک ہے جو بیٹری ٹائم کو کم کرتا ہے۔ گو کہ گی پی ایس ایک سہولت ہے لیکن بعض اوقات آپ کو اس کی ضرورت نہیں ہوتی لہذا آپ اسے بوقت ضرورت آ ن کریں۔
پروسیسر کی سپیڈ کم کردیں
یہ ایک انتہائی اقدام ہوتا ہے اور بہت زیادہ مجبوری میں اٹھایا جا سکتا ہے۔ آپ کو با آسانی ایسی ایپس مل جاتی ہیں جن سے آپ یہ کام لے سکتے ہیں۔


“Apple iWatch” Launching With 1.7″ and 1.3″ Variants in October 2014

Admin
All you Apple lovers must read out the coming information as many rumors are coming for Apple iwatch. Apple is working on its final launching plans to release its new product Apple iWatch in the span of the coming months . The iWatch will be available to its users with two variants 1.7 inches and 1.3 inch screen . The smart watch will be available for both the genders iefor Men and Women .The iWatch having smaller screen size  will be available for women with vibrant colors and combinations.
 
 
The wearable Apple iWatch will  be launched  with a  OLED display . The OLED display, which will have 320 x 320 pixels resolution will provide a great vision to its users . It is heard from source that  iWatch will have a  flexible display to compete with its other big brand smart watches like Motorola, Samsung, LG etc. Samsung the brand in technology is also working on flexible display smart watch and it will also launch in the couple of months. The Apple iWatch likely to be released at the end of September or in the beginning of the October 2014. In spite of the Apple, In the technology market Samsung Galaxy Gear, Motorola Moto 360, SonySmart Watches will also be seen till the end of this year. Apple Inc. Hired a Nike Key Designer to include a sporty look at its iWatch . The images for Apple iWatch looks a bit very interesting at the moment on the web portal. As per the images Apple iWatch seems so elegant and sporty whether it goes on men or if we talk about women.So Apple iWatch will be so impressive and smart in looks. Users have to wait a bit for the Apple iWatch to be launched in the Indian Markets. Price and other specification are not yet properly disclosed.


مسلم فیس... سماجی رابطے کی متبادل ویب سائٹ تیار

Admin
دنیا میں سوشل میڈیا کی مقبولیت اور اہمیت سے متاثر ہو کر مسلمان کاروباری شخصیات نے’’مسلم فیس‘‘ کے نام سے سماجی رابطوں کی ایک متبادل ویب سائٹ تیار کی ہے جسے جلد ہی لانچ کر دیا جائے گا۔
 
تکنیکی ماہرین نے ابتدائی اور تجرباتی طور پر ’’مسلم فیس‘‘ کو ایک ہزار صارفین کے لیے تیار کیا ہے تاکہ اس کے نیٹ ورک کو باضابطہ طور پر عالمی سطح پر پھیلانے سے قبل فنی رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔
چونکہ سماجی رابطے کی اب تک سامنے آنے والی تمام ویب سائیٹس پر مغربی ملکوں کی اجارہ داری سمجھی جاتی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مروجہ سوشل میڈیا نے آزادی اظہار کے گھوڑے کو اس حد تک بے لگام چھوڑ دیا کہ اس نے تمام انسانی قدروں، ضابطہ اخلاق اور مذہبی اقدار کو بھی پامال کرنا شروع کر دیا۔
اس کے ردعمل میں مختلف طبقات اور مذاہب نے آواز بھی اٹھائی مگر وہ زیادہ موثر ثابت نہیں ہو سکی۔ ’’مسلم فیس‘‘ کے بانی ارکان کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک ایسا سوشل نیٹ ورکنگ فورم متعارف کرا رہے ہیں جس میں سچائی اور حقائق پرمبنی مواد کی اشاعت کے ساتھ ساتھ اسلام کے ضابطہ اخلاق اور اسلامی اقدار کی بھی پابندی کی جائے گی۔ مسلم فیس کے ذریعے صارفین کو ایسا مواد پوسٹ یا پبلش کرنے کی اجازت نہ ہو گی جس سے مسلمانوں یا کسی بھی دوسرے طبقے کی دل آزاری کا اندیشہ ہو۔
فی الوقت یہ ویب سائٹ تیاری کے مراحل میں ہے جسے انگریزی، فارسی، عربی، اردو، ملائے، ترکی اور بھاسا [انڈونیشئن] زبانوں کے علاوہ بعض دوسری زبانوں پر منتقل کرنے کا عمل جاری ہے۔
’’مسلم فیس‘‘کے نام سے بہ ظاہر لگتا ہے کہ یہ صرف مسلمان صارفین کے لیے مختص سماجی ویب سائٹ ہو گی۔ مگر ایسا ہر گز نہیں۔ اگرچہ یہ ویب سائٹ مسلمانوں کے درمیان سماجی رابطے مضبوط بنانے کے لیے ایک بہترین فورم ضرور ثابت ہو گا مگر اس کے ذریعے غیر مسلم برادری سے بھی روابط بڑھانے میں مدد ملے گی۔
’’مسلم فیس‘‘کے ایک بانی رکن شعیب فدائی کا کہنا ہے کہ ویب سائٹ کو اسلامی نقطہ نظر کے مطابق ڈیزائن کیا گیا ہے لیکن یہ صرف مسلمانوں کی نہیں دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے لیے بھی ایک کھلا فورم ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ ابھی تک اسلامی دنیا کا کوئی مربوط سوشل نیٹ ورک نہیں ہے۔ہم اسی ضرورت کےپیش نظر یہ ویب سائٹ لانچ کر رہے ہیں۔ مسلم فیس کے دیگر بانی ارکان روح ال امین اور ایم شعیب کا کہنا ہے کہ ہماری سماجی رابطے کی ویب سائٹ سے کسی کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہم اس ویب سائٹ سے اسلام مخالف مواد پوسٹ ہونے دیں گے اور نہ کسی دوسرے مذہب کی دل آزاری پر مبنی مواد شائع کریں گے۔ ہم انسانی اقدار اور اسلامی اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے عوام الناس کو باہمی رابطے کا ایک نیا فورم مہیا کریں گے جس کا ہر پہلو مثبت ہو گا۔

دماغی کمزوری کے شکار افراد کی مدد کے لیے اسمارٹ سینسرز

Admin
جرمنی میں الیکٹریکل انجینیئرز نے ایک سہ جہتی پراسیسنگ سسٹم تیار کیا ہے جو ڈیمنشیا یا دماغی کمزوری کے شکار افراد کے روزانہ معاملات کی نگرانی کرتا ہے اور انہیں وقت پر دوائیں لینے سمیت مختلف چیزیں یاد دلاتا ہے۔
یہ نظام ایسے مریضوں یا افراد کی صورتحال کے بارے میں ان کے رشتہ داروں یا ان لوگوں کو معلومات فراہم کرتا رہتا ہے جو ان کی دیکھ بھال کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔
اس نظام کو OPDEMIVA کا نام دیا گیا ہے جو دراصل مخفف ہے جرمن زبان میں ’رویوں کے ذہین انداز سے تجزیے کے ذریعے ڈیمنشیا کے مریضوں کی دیکھ بھال کا نظام‘ کا۔ یہ نظام دراصل ذہنی کمزوری کے شکار افراد کو حتی الوسع اس قابل بناتا ہے کہ وہ دیگر لوگوں کی مدد کے بغیر گھر میں اکیلے رہ سکتے ہیں اور اپنے معمولات انجام دے سکتے ہیں۔
اسمارٹ سینسرز کے نیٹ ورک پر مبنی یہ نظام جرمنی کی کَیمنِٹس Chemnitz یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے شعبہ ڈیجیٹل سگنل پراسیسنگ اینڈ سرکٹ ٹیکنالوجی کے انجینیئرز نے تیار کیا ہے۔ یہ نظام مریض کی پوزیشن، اس کے جسم کی حرکات اور مختلف چیزوں کے ساتھ ان کے انٹرایکشن یا تعامل کے بارے میں معلومات حاصل کرتا ہے۔
 دنیا بھر میں قریب 44 ملین افراد ڈیمنشیا کے مریض ہیں
دنیا بھر میں قریب 44 ملین افراد ڈیمنشیا کے مریض ہیں
ڈیمنشیا کے مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے اب تک جتنے بھی نظام تیار کیے گئے ہیں ان میں ویڈیو کیمروں کا استعمال لازمی طور پر ہوتا ہے۔ چونکہ یہ کیمرے کسی کے گھر کے اندر کی تصاویر باہر موجود کسی اسٹیشن تک بھیجتے رہتے ہیں، اس لیے یہ پرائیویسی کی خلاف ورزی کا سبب بن سکتے ہیں۔ تاہم جرمن ماہرین کے تیار کردہ نظام میں کیمروں کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔
یہ نظام تیار کرنے والوں میں شریک ایک خاتون انجینیئر یُولیا رِشٹر Julia Richter کے مطابق اس نظام کے ذریعے حاصل ہونے والا ڈیٹا دراصل گھر سے باہر بھیجنے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی۔ مثلا مریض اگر باتھ روم میں داخل ہوتا ہے تو اسے آواز کے ذریعے یاد دلایا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے دانت صاف کر لے یا اگر وہ کافی دیر تک بیٹھا ٹیلی وژن دیکھتا رہتا ہے تو اسے یاد دلایا جا سکتا ہے کہ وہ اٹھ کر چہل قدمی کر لے۔
جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے سے گفتگو کرتے ہوئے رِشٹر کا کہنا تھا کہ اس نظام کا مقصد ڈیمنشیا یا دماغ کی کمزوری کے شکار مریضوں کے روزانہ کے معمولات پر نظر رکھنا اور ان کا جائزہ لینا ہے۔ رشٹر کے مطابق مریضوں سے متعلق ڈیٹا اسمارٹ فون کے ذریعے ان کے رشتہ داروں یا ان کی دیکھ بھال کرنے والوں کو بھی بھیجا جا سکتا ہے: ’’اگر مریض اس خواہش کا اظہار کرتا ہے کہ تصاویر کہیں بھیجی جائیں، تو ایسا بھی ممکن ہے۔‘‘
رشٹر مزید بتاتی ہیں، ’’سینسر اس بارے میں بھی معلومات فراہم کرتے ہیں کہ آیا مریض نے مناسب مقدار میں پانی پیا ہے، مناسب حد تک حرکت میں رہا ہے یا پھر اس نے اپنی صفائی ستھرائی کا خیال رکھا ہے یا نہیں۔‘‘
دنیا بھر میں قریب 44 ملین افراد ڈیمنشیا کے مریض ہیں اور یہ تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ جرمنی کی الزائمر سوسائٹی DAlzG کے اندازوں کے مطابق جرمنی میں سال 2050ء تک ڈیمنشیا کے مریضوں کی تعداد تین ملین تک پہنچ جائے گی کیونکہ ملکی آبادی میں معمر افراد کے تناسب میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ڈیمنشیا کے مرض کا خطرہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ بڑھتا جاتا ہے۔

Coprights @ 2016, Blogger Templates Designed By Templateism | Distributed By Gooyaabi Templates